Home / News / سپیکر سردار غلام صادق کی زیر صدارت آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس

سپیکر سردار غلام صادق کی زیر صدارت آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس

مظفر آباد (مظفر گڑھ ڈاٹ سٹی۔19ستمبر۔2014ء) آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعہ کے روز سپیکر قانون ساز اسمبلی سردار غلام صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس کی کارروائی کا آغاز باقاعدہ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر چوہدری طارق فاروق کی طرف سے پیش کی گئی تحریک التواء کی قرارداد پر بحث کرتے ہوئے وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد رشید نے کہا کہ مملکت خدادا پاکستان کے قیام کے لیے کشمیریوں نے بھی اپنی لازوال قربانیاں دیں اور اپنی منزل کا تعین پاکستان کے ساتھ کر دیا تھا۔کشمیری عوام پاکستان کو اپنا بڑا بھائی اور وکیل سمجھتے ہیں اور اس کو کسی صورت کمزو ر ہوتا برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک نظریہ کے تحت بابائے قوم حضرت قائد اعظم نے دنیا کے نقشہ پر لایا اور اسی مفاہمتی پالیسی کو میاں محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری نے آگے بڑھایا۔ہمارے آپس کے سیاسی تحفظات اپنی جگہ پر ہیں لیکن جمہوریت کی بالا دستی کو ہر صورت قائم رکھا جائے گااور آئین سے ہٹ کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ جو قرارداد اس ایوان میں معزر رکن نے پیش کی اس کو متفقہ طور پر پاس کیا جائے۔قرارداد پر بحث کرتے ہوئے وزیر تعلیم سکولز میاں عبدالوحید نے کہا کہ آج انتہائی اہم معاملے پر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بحث ہو رہی ہے ۔ ہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہیے ہیں۔ آج ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ لشکر کشی کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جھوٹی انا بنا کر ڈی چوک اسلام آباد میں ماؤں بہنوں کو ناچ گانا کروا کر کونسا نیا پاکستان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے معتبر ادارے مسلح افواج کے خلاف سازشیں کی جار ہی ہیں جو کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج مبارکباد کی مستحق ہیں جو ہماری سرحدوں کی جانفشانی سے حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر دہشت گردی کو روکنے کے لیے آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک دشمن عناصراور دہشت گردی پر مبنی سرگرمیوں کے قلع قمع کے لیے آپریشن ضرب عضب میں برسر پیکار افواج پاکستان کی پشت پر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام بھی پاک آرمی کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور وطن عزیز پاکستان کے لیے ریاست جموں وکشمیر کا ہر فرد اپنے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم قائد اعظم کے پاکستان کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتیے ہیں اور پاکستان کی قیادت کو موجودہ بحران میں مل جل کر مفاہمتی پالیسی کے تحت جمہوریت کی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ایوان میں جو قراردادپیش ہوئی ہے اس کو متفقہ طور پر پاس کیا جائے۔آزادکشمیر قانون سازاسمبلی میں قرارداد کی تحریک پر بحث کرتے ہوئے وزیرتعلیم کالجز محمد مطلوب انقلابی نے کہا کہ جو قرارداد ایوان میں زیر بحث ہے اس پر ایک عام شہری اور ذمہ دار حیثیت میں کہتا ہوں کہ اس وقت اسلام آباد میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پاکستان کو کمزور اور اس کے وجود کو کمزور کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔اس دھرنے کی کہانی کوئی نہیں۔پاکستان کے 18کروڑ عوام کے اندر بے چینی ،عدم اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ملک پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ملک دشمن عناصر جب پاکستان وجود میں آیا اس وقت بھی اکھنڈ بھارت بنانے کے خواہاں تھے اور پاکستان کے قیام سے لے دیکھا جائے تو ہر موڑ پر پاکستان کے دشمن برسرپیکار نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں پی پی پی کا ایک کا رکن ہونے پربڑے فخر سے کہتا ہوں کہ ہماری جماعت نے پاکستان کے لئے بڑے کارنامے سرانجام دئیے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح بھی کی ہے اس کی تاریخ گواہ ہے۔پاکستان کا نظام آج اس چکی میں پیس رہا ہے جو 30سال قبل تھا اس نظام کو چوٹ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے لگائی تھی اور پاکستان کے کونے کونے سے لوگوں نے پارٹی کی قیادت کو دیکھا اور اس کو ووٹ دیا تھا۔ہم نے پچھلے 5سال پاکستان میں برداشت کا عادہ پیدا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ بھٹو دوہیں ایک میں ا عوام کے سامنے خود ہوں اور ایک عوام کے دلوں میں ہے۔عوام کی سوچ اس سوچ فکر کو آپ کبھی تبدیل نہیں کرسکتے۔آج اس بھٹو کی سوچ وفکر کو دوبارہ قتل کیاگیا ہے۔ہمیں اپنے خلاف اس آواز کو سننا پڑے گا یہ آواز کدھر سے کیوں اور کہاں سے آئی ہے ہمیں میاں نواز شریف کے اس نظام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ایسے وقت میںDچوک میں یہ دھرنا کس کی ایماء پر لگایاگیا ہے اور اس وقت کا انتخاب کس نے کیا ہے ۔پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنے اور سالمیت کے دشمن نے یہ کھیل کھیلا جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ قرارداد کو متفقہ طورپر پاس کیاجائے۔

Loading...
%d bloggers like this: