Breaking News
Home / News / حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے‘ ڈاکٹرشاہدحسین مگسی

حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے‘ ڈاکٹرشاہدحسین مگسی

مظفر گڑھ۔14 اپریل(مظفر گڑھ ڈاٹ سٹی۔ 14 اپریل2018ء)حکومت عوام الناس کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے‘ محکمہ صحت مظفرگڑھ نے پہلی سہہ ماہی کے دوران تمام اہداف حاصل کئے تاہم روٹین ویکسینشن کے حوالہ سے کارکردگی مایوس کن رہی ہے لہذا ای پی آئی کی بہتری کیلئے جزا و سزا کا طریقہ کا ر واضح کیا جارہاہے ۔یہ بات ڈاکٹر شاہد حسین مگسی سی ای او ہیلتھ مظفرگڑھ نے ایم ایس ڈی ایس انڈیکیٹرز کے سلسلہ میں ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سیف انور کی ہدایت کی روشنی میں 17 اپریل سی21 اپریل تک ہفتہ ای پی آئی منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا روٹین ایمونائزیشن کی بہتری کیلئے جز ا و سزا کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ای پی آئی کے حوالے سے آئندہ دو ہفتے بہت اہم ہیں اس دوران تمام افسران اور اہلکاران کوہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہے اس صورتحال کے پیش نظر ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر طارق محمود اور ڈاکٹر کا ظم خاں کی سربراہی میں ڈپٹی ڈی ایچ اوز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر اور سی ای او کو ای پی آئی کی جائزہ رپورٹ پیش کریگی ۔انہوں نے کہا اس ہفتہ کے دوران ڈپٹی کمشنر یونین کونسلز میں جاکر ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ تمام یونین کونسل میں ڈیو اور ڈیفالڑز بچوں کا ریکارڈ مرتب کیا جاچکا ہے یوسی ایم اوز کی ڈیمانڈ کے مطابق ویکسین اور لاجسٹک فراہم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ای پی آئی ٹیموں کی سربراہی نیوٹریشن سپروائز کریں گے ای پی آئی کی ٹیمیں گھر گھر جا کر ایک سے دو سال تک کے بچوں کا سروے اور انہیں حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ قبل ازیں ڈاکٹر شاہد حسین مگسی نے سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ روٹین ای پی آئی نیوٹریشن سپروائزرز کی بنیادی ذمہ داری ہے آپ ای پی آئی ہفتہ کے دوران محنت اورلگن سے ای پی آئی میں بہتری لائیں بصورت دیگر کام نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائیگی اور انہیں ضلع بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔

Loading...
%d bloggers like this: