Home / News / گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں پمفلٹ تقسیم کرنے پر طلباء میں جھگڑا‘ منع کرنے پر دو پروفیسرز کو پیٹ ڈالا‘ ایم پی اے کے بیٹے اور بھانجے سمیت 6 افرادگرفتار، پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی پروفیسرز پر حملے کی شدید مذمت

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں پمفلٹ تقسیم کرنے پر طلباء میں جھگڑا‘ منع کرنے پر دو پروفیسرز کو پیٹ ڈالا‘ ایم پی اے کے بیٹے اور بھانجے سمیت 6 افرادگرفتار، پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی پروفیسرز پر حملے کی شدید مذمت

مظفرگڑھ(مظفر گڑھ ڈاٹ سٹی۔04مارچ۔2015ء) گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں پمفلٹ تقسیم کرنے پر طلباء میں جھگڑا‘ منع کرنے پر دو پروفیسرز کو پیٹ ڈالا‘ ایم پی اے حماد نواز کے بیٹے اور بھانجے سمیت 6 آؤٹ سائیڈر گرفتار‘ سٹی پولیس نے شرپسند طلباء کیخلاف کارروائی شروع کردی‘ پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی پروفیسرز پر حملے کی شدید مذمت۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں ایم ایس ایف کے ضلعی صدر شرجیل ساتھیوں سمیت بدھ کو ایم ایس ایف کے پمفلٹ تقسیم کررہے تھے کہ اس دوران کالج میں امتحان کیساتھ ساتھ تدریسی عمل بھی جاری تھا۔ ایم ایس ایف کے کارکن پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ بلاک میں چلے گئے جہاں ایم اے اردو کی کلاس کو پروفیسر اشرف پڑھا رہے تھے۔ایم ایس ایف کے طلباء نے دوران تدریس کلاس میں پمفلٹ تقسیم کرنا شروع کردئیے تو انہوں نے منع کیا تو شرجیل‘ عبدالوحید‘ واثق نواز‘ محمد واجد‘ رؤف حسن‘ محمد رمضان‘ واجد علی اور ندیم وغیرہ طلباء نے ان پر حملہ کردیا اور پروفیسر اشرف اور پروفیسر بشیر احمد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران پروفیسر اشرف کو گریبان سے پکڑ کر کلاس سے باہر گھسیٹ کر لے آئے اور چھڑانے کیلئے آنے والے طلباء و طالبات اور دیگر پروفیسرز کو بھی مارا پیٹا۔کالج انتظامیہ نے سٹی پولیس اور ریسکیو 1122 کو طلب کرلیا۔ پولیس نے ایم پی اے حماد نواز ٹیپو کے بھانجے اور ضلعی صدر ایم ایس ایف مظفرگڑھ شرجیل سمیت ندیم‘ محمد واجد‘ واجد علی‘ محمد رمضان‘ عبدالوحید اور ایم پی کے حماد نواز کے بیٹے واثق نواز کو حراست میں لے کر تھانہ سٹی منتقل کردیا۔ پرنسپل انچارج پروفیسر افتخار ہاشمی نے اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے جبکہ پی پی ایل اے مظفرگڑھ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں پروفیسرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث تمام ملزموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

Loading...
%d bloggers like this: