Breaking News
Home / News / کیڑوں کی وجہ سے سالانہ ذخیرہ شدہ غلہ کا نقصان 5سے 15فیصد تک ہے، مہر عابد حسین

کیڑوں کی وجہ سے سالانہ ذخیرہ شدہ غلہ کا نقصان 5سے 15فیصد تک ہے، مہر عابد حسین

مظفر گڑھ (مظفر گڑھ ڈاٹ سٹی۔07 مئی۔2016ء) دو درجن کیٹرے ذخیرہ شدہ غلہ کو گو داموں ، کو ٹھیوں اور بھڑولوں میں نقصا ن پہنچاتے ہیں ۔کیڑوں کی وجہ سے سالانہ ذخیرہ شدہ غلہ کا نقصان 5سے 15فیصد تک ہے۔کاشتکار بروقت حفاظتی اقدامات سے غلہ کو محفوظ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار مہرعابد حسین ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت توسیع مظفر گڑھ نے کاشتکاروں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گوداموں اورگھروں میں زرعی اجناس گندم ، چاول، مکئی ، چنا، آٹا اوران کی دیگرمصنوعات ذخیرہ کی جا تی ہیں۔صو بہ پنجا ب میں تقر یباًملکی ما ہرین کے اندازے کے مطابق ہر سال5سے 15فیصد غلہ ان کیڑوں کی نذر ہو جا تا ہے اس مجموعی نقصان کی اہمیت کا ا ندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ملک میں پیدا شدہ غلہ کو ان موذی کیڑوں کے حملے سے بچاسکیں تو ہم اپنی خوراک کی ضرورت کے علاوہ بیرونی اسلامی ممالک کی ضروریات کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔مہر عابد حسین نے کہا کہ ذخیرہ شدہ غلہ کونقصان پہنچانے والے کیڑوں میں کھپرا ، گندم کی سُسری ، آٹے کی سُسری ، سونڈ والی سُسری ، گندم کا پروانہ اورہندی پتنگہ کے علاوہ چوہے بھی شامل ہیں۔غلہ کو نقصان پہچانے والے یہ نقصان رساں کیڑے عموماً گوداموں میں پڑی ہوئی استعمال شدہ بوریوں میں موجود ہوتے ہیں۔ جب غلہ بھرنے کے لیے ان بوریوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے تو یہ کیڑے غلہ میں مل جاتے ہیں بعض اوقات جب نئی بوریوں کو گوداموں میں پرانی بوریوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے تو یہ کیڑے نئی بوریوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اور اپنی نسل بڑھا کر ذخیرہ شدہ غلہ کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔گوداموں کی صفائی کے وقت ضائع شدہ غلہ اور گردوغبار کو گوداموں کے قریب پھینک دیا جاتا ہے جس سے یہ نقصان رساں کیڑے اڑکر یا رینگ کر واپس گوداموں میں پہنچ جاتے ہیں اور دوبارحملے کا باعث بنتے ہیں ۔غلہ کے نقصان رساں کیڑے کھپرا کے بچے اور سونڈ والی سُسری کے بالغ پردار کیڑے سردیوں کا موسم گوداموں کے فرش ، چھت اور دیواروں کی دراڑوں میں سستی کی حالت میں گزارتے ہیں اور گوداموں میں نیا غلہ آنے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔جس گودام میں غلہ ذخیرہ کرنا مقصود ہو وہاں سے پرانے دانوں ، بھوسے کے تنکوں اور مٹی وغیرہ کو اچھی طرح صاف کرلیں ۔گودام کے فرش ، دیواروں اور چھتوں کی مرمت کریں اور ان میں موجود سوراخوں کو اچھی طرح بند کردیں۔ گودام کا روشن اور ہوا دار ہونا ضروری ہے۔غلہ کو ذخیرہ کرنے سے پہلے اچھی طرح خشک کرلیں کیونکہ تھوڑی نمی والے غلہ پر ان کیڑوں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ۔ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت نے کہا کہ گودام کے کیڑوں کے انسداد کیلئے زیادہ بہتر اور موزوں طریقہ فاسفین گیس کا موثر استعمال ہے ۔ یہ گیس فاسٹاکس ، فاسٹک یا ایکٹا کسن گولیوں سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے ذخیرہ شدہ غلہ پر حملہ آور ہونے والے تمام حشرات کی تلفی ہوتی ہے۔غلہ ذخیرہ کرنے سے پہلے گوداموں کو ہوا بند کرکے ایگٹاکسن کی دھونی کیلئے 30سے35گولیاں بحساب فی ہزار معکب فٹ استعمال کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار ان گولیوں کا استعمال احتیاط سے کریں۔ کیونکہ یہ گولیاں کسی بھی دوسرے زہر کی طرح خطرناک ہیں۔

Loading...
%d bloggers like this: