Home / News / کزن نے شادی کی خوشی میں فائرنگ کرتے ہوئے دُلہے کو ہی گولی مار دی

کزن نے شادی کی خوشی میں فائرنگ کرتے ہوئے دُلہے کو ہی گولی مار دی

ہوائی فائرنگ کے باعث زخمی ہونے والے دلہے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ، مقدمہ درج

مظفر گڑھ (مظفرگڑھ ڈاٹ سٹی ۔ 27 جنوری2021ء) شادی میں ہوائی فائرنگ سے دلہا شدید زخمی ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق شادی کی تقریبات میں فائرنگ اب عام ہو چکی ہے۔پابندی کے باوجود مختلف علاقوں میں شادی کی تقریبات میں فائرنگ کی جاتی ہے جو بعض اوقات خوشیوں کو غم میں تبدیل کرنے کا بھی باعث بنتی ہے۔ایسا ہی واقعہ مظفر گڑھ میں پیش آیا جہاں شادی کی تقریب میں فائرنگ کی وجہ سے خوشیاں بھری تقریب غم میں تبدیل ہو گئی۔
بتایا گیا کہ مظفر گڑھ کے علاقے کرمداد قریشی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی گئی جس دلہا عرفان شدید زخمی ہو گیا۔دلہے کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے ہوائی فائرنگ دلہے کے کزن اور دیگر رشتہ داروں کی جانب سے کی گئی تھی۔
دلہے عرفان کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ قریشی میں واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کی جانب سے اس بات کی بھی تفتیش کی جائے گی کہ آیا ملزم سے گولی غیر ارادی طور پر چلی یا نہیں۔چند روز قبل ہی شہر قائد کے علاقے گلزار ہجری میں ہونے والی شادی کی تقریب میں منچلوں کی ہوائی فائرنگ سے علاقہ گونج اٹھا تھا۔ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں واقع ابوالحسن اصفہانی روڈ پر قائم گلشن ویو اپارٹمنٹ میں موجود ڈیرے پر 6 روز قبل شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
شادی کی یہ تقریب دو گھنٹے تک جاری رہی جس میں سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیداران اور اپارٹمنٹ کے مکینوں سمیت متعدد مہمانوں نے شرکت کی۔ شادی کی تقریب دو گھنٹے تک جاری رہی، اس دوران سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیداروں نے چھوٹے اور بڑے اسلحے سے شدید ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے علاقہ گولیوں کی تھڑ تھڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ شادی میں شرکت کرنے والے مسلح افراد ثقافتی رقص کے دوران بھی ہوائی فائرنگ کرتے رہے اور اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی رہی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اس مقام سے چند قدم کے فاصلے پر سچل کی چوکی قائم ہے جس کو تھانے کی حیثیت حاصل ہے جبکہ ساتھ ہی ایس پی کا دفتر بھی موجود ہے۔چوکی کو تھانے کی حیثیت حاصل ہونے اور ایس پی آفس میں اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے، شادی میں شریک افراد کھلے عام فائرنگ کرتے رہے، ان کے خلاف نہ کوئی ایکشن ہوا اور نہ ہی پولیس کی نفری وہاں پر پہنچی۔

Loading...
%d bloggers like this: