Breaking News
Home / Articles / ملتان کا عظیم مسلمان حاکم نواب مظفر خاں شہید از سجاد ضیغم

ملتان کا عظیم مسلمان حاکم نواب مظفر خاں شہید از سجاد ضیغم

نواب محمد مظفر خان سدوزئی شہید مودود خیل صفدر جنگ‘ صوبیدار و حاکم ملتان‘ بانی شجاع آباد نواب شجاع خاں کے فرزند و جانشیں اور ملتان کے صوبیدار نواب زاہد خان کے پوتے تھے۔ آپ 23 سال کی عمر میں افغان بادشاہ تیمور شاہ کے حکم سے ملتان کے صوبیدار بنے۔ آپ کا دور حکومت فروری 1780 ء تا جون 1818 ء تقریباً 38 سال کے عرصے پر محیط ہے۔

سکھوں کی طوائف الملوکی‘ کابل حکومت کے ادبار اور مغل حکومت کے انحطاط کے انتہائی مخدوش حالات میں آپ کی ذات مصدرحسنات اہلیان ملتان و گردونواح کے لوگوں کیلئے پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ نے عزم و ہمت کی چٹان بن کر سکھوں کے ملتان پر 9 حملوں کا مقابلہ کیا اور تاریخ کے صفحات پر اپنی جرات و بہادری کی داستان رقم کی۔ آپ کے عنانِ اقتدار سنبھالنے سے پہلے آٹھ سال تک ملتان پر سکھوں کی حکومت رہی۔ انہوں نے ملتان کو تباہ برباد کرنے اور یہاں کی عوام کا سکون غارت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اس طرح اقتدار سنبھالتے ہی آپ کے کندھوں پر ملتان کی دوبارہ تعمیر اور آئندہ سکھوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کی بھاری ذمہ داری آن پڑی اسے آپ نے بطریق احسن اور بخوبی و کمال نبھایا۔ آپ کی عمدہ تعلیم‘ اعلیٰ تربیت‘ بلند انتظامی صلاحیتوں‘ بہترین دفاعی و جنگی مہارتوں‘ رعایا کی خبرگیری‘ ہمدردی و خیرخواہی‘ خدمت خلق کے اسلامی اوصاف اور سیرت و کردار کے دیگر خصائص کی وجہ سے آپکا دور حکومت انتہائی شاندار تھا جس میں عوام کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہی ۔ آپ کے دور حکومت کے دفاعی نظام اور نظام انصاف کے حوالے سے سابق وائس چانسلر بی زیڈ یو ڈاکٹر عاشق محمد خاں درانی یوں رقمطراز ہیں ’’نواب کا لشکر دو ہزار گھوڑ سواروں اور 10 ہزار پیادہ سپاہیوں پر مشتمل تھا گھوڑ سوار ہر وقت حاضر باش فوج تھی باقاعدگی سے تنخواہ لیتی تھی۔ نوا ب کے توپ خانہ میں 20 توپیں تھیں جو شجاع آباد کے قلعہ اور ملتان کے قلعہ میں مستقل طور پر نصب تھیں ان کیلئے بارود کے ذخیرہ کرنے کا ہر قلعہ میں خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔ نواب سپاہیوں کی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا انکی رہائش اور خوراک کا بندوبست نہایت عمدہ تھا صحت کیلئے حکیم مقرر تھا انکے آپس کے جھگڑوں کو طے کرنے کیلئے محکمہ انصاف قائم تھا جس کا انچارج قاضی تھا اس سلسلے میں نواب بڑا سخت گیر تھا عوام کو بھی انصاف دینے میں بڑا انصاف پسند اور سخت واقع ہوا تھا کسی افغان یا رشتہ دار کی پرواہ نہ کرتا (از تاریخ ملتان ص 205 )

نواب کا دور حکومت اگرچہ شدید خطرات و آزمائشوں اور سخت نوعیت کے چیلنجز کا دور تھا مگر آپ نے اپنے بہترین نظم و نسق سے تمام خطرات کو قابو میں رکھ کر اپنے زیرنگیں علاقے کی ترقی اور یہاں کے عوام کی خوشحالی کیلئے بے شمار تعمیراتی کام کروائے۔ آپ کے فلاحی منصوبوں کی فہرست بہت طویل ہے مگر یہاں طوالت سے بچنے کیلئے قارئین کی خدمت میں تاریخ ملتان کا یہ اقتباس پیش کیا جاتا ہے ’’ملتان سے دس میل دور مظفر آباد کا قصبہ آباد کیا مزید دس میل آگے دریائے چناب کے دائیں کنارے ایک دکان تھی جہاں سے مسافر خوردونوش کی اشیاء لیتے تھے خاص کر وہاں کی کھجور مشہور تھی اور رات کو وہاں قیام کرتے تھے مالک کا نام موسیٰ تھا اسلئے دکان کا نام موسن دی ہٹی (Musan Di Hatti)تھی۔ یہ ہٹی (دکان) چناب سے ڈیرہ غازیخان جاتے ہوئے راستہ میں تھی۔ نواب محمد مظفر خاں نے اس ہٹی سے نصف میل کے فاصلہ پر 1798 ء میں قلعہ تعمیر کروایا پھر شہر آباد ہو گیا اس طرح قلعہ اور شہر مظفر گڑھ کی بنیاد رکھی گئی اسی طرح نواب نے دیگر بے شمار تعمیراتی کام کروائے۔ چناب سے نہریں نکلوائیں۔ رنگ پور‘ مراد آباد‘ خان گڑھ‘ مظفر گڑھ‘ غضنفر گڑھ کے علاقوں کے لوگوں میں زراعت کی ترقی کی وجہ سے خوشحالی آگئی ‘‘ (ص 207)اس پُرآشوب دور میں کہ جب پورے برصغیر میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا زندگی زیروزبر تھی‘ لاقانونیت اپنے عروج پر تھی‘ انگریز تیزی سے اپنے قدم مضبوط کرتا جا رہا تھا‘ سکھوں کی غارتگری‘ چھینا جھپٹی و لوٹ مار اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ نواب مظفر خاں شہید نے اضطراب و بے سکونی کے اس دور میں اپنے حسن انتظام‘ تجربے‘ مہارت‘ جرات و بہادری سے نہ صرف ملتان کی حفاظت کی بلکہ یہاں تعلیمی تعمیراتی کاموں کا جال بچھوا دیا۔

نواب مظفر خاں کے دور حکومت میں علم و ادب‘ تخلیقی و تحقیقی‘ صنعت و حرفت‘ معیشت و معاشرت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ آپ نے بالخصوص ملتان اور مظفر گڑھ میں بے شمار ترقیاتی و تعمیراتی اور فلاحی منصوبوں کو مکمل کیا۔ آپ نے آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے درج ذیل انہار کھدوائیں‘ نالہ گجو ہٹہ (شیرشاہ سے شجاع آباد) دھوندوں نالہ (شجاع آباد ) نالہ بختو واہ ‘ نالہ سکندر آباد‘ نہر کھادل‘ نہر طاہر پور‘ نالہ غوث واہ (رنگ پور اور خانپور) نالہ تلیری (مظفر گڑھ)

آپ کی اسلامی اقدار کی پاسداری کی وجہ سے اس دور کے علماء و مشائخ آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ ملتان کے عظیم روحانی بزرگ اور سلسلہ چشتیہ کے شیخ المشائخ حضرت حافظ جمال اللہ ملتانیؒ نے سکھوں کے ملتان پر پانچویں حملے کے وقت آپکے شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لیا اور سکھوں کے ملتان پر قبضے کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ حضرت خوجہ سلیمان تونسویؒ نے مناقب المجوبین اور حضرت خواجہ شمس الدین سیالویؒ نے مراۃ العارفین میں آپکا تذکرہ تحسین و تعریف کے انداز میں کیا ہے ۔ حضرت خواجہ قاضی محمد عیسیٰ خانپوریؒ نے آپکے بارے میں یوں لکھا ہے ’’نواب مظفر الدین خاں شہید والیِ ملتان علم و عمل میں سراپا اخلاص تھے ‘ ملتان کے تمام صوفیاء کا احترام کرتے تھے‘ وہ سخاوت اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے‘‘ حضرت خواجہ خدا بخش علیہ الرحمت ملتانی آپ کے بارے میں یہ رائے دیتے ہیں ’’نواب مظفر الدین خان شہید ملتانی نہ صرف متقی و پارسا تھے بلکہ عالم دین اور مجاہد فی سبیل اللہ تھے‘‘ برصغیر کے کم عمر عبقری حکیم اور عالم علامہ عبدالعزیز پرہاڑویؒ نے اپنی کتاب منتہیٰ الکمال میں آپکے بارے میں یوں لکھا ہے ’’نواب مظفر الدین علم و فراست اور سراپا ادب ہیں یہ فقیر عبدالعزیز پرہاڑوی نواب صاحب کیلئے دعا گو ہے‘‘ ان جلیل القدر اور عظیم المرتبت علماء و مشائخ کی آراء سے نواب صاحب کی شخصیت کا روحانی دینی پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔ وہ صرف حاکم نہیں تھے بلکہ دینی اوامرونواہی پر سختی سے کاربند عظیم انسان تھے۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے ۔ نواب صاحب کی عظمت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ظفر نامہ رنجیت سنگھ کے مصنف دیوان امر ناتھ بھی آپکی تعریف میںیوں لکھتے ہیں ’’ مظفر خاں خوش مزاج‘ و متقی شخص تھا اور وہ اس مقام سے تھا کہ جہاں نیک نامی اور شہادت لوح ایام پر ثبت ہو چکی ہے‘‘ ملتا ن کے اس عظیم حاکم نے ملتان کا دفاع کرتے ہوئے انتہائی پامردی اور استقلال اور ہمت و شجاعت سے سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 2 جون 1818 ء کو اپنے پانچ بیٹوں‘ ایک بیٹی‘ درجنوں عزیزواقارب اور سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کر کے ہمیشہ کیلئے اپنا نام تاریخ کے روشن صفحات پر ثبت کرا دیا۔ آپ آزادی ہند سے پہلے ملتان کے آخری مسلمان حاکم تھے۔ آپ کی شہادت اور سقوط ملتان کے بعد سکھوں نے یہاں کے عوام بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے یوں سقوط ملتان کے مسلمانوں پر سیاسی‘ سماجی ‘ معاشی و معاشرتی اور تعلیمی طور پر خوفناک اثرات مرتب ہوئے۔

سورس: نوائے وقت

Loading...
%d bloggers like this: