Breaking News
Home / News / مظفرگڑھ میں مدرسے جانے والا معصوم بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل

مظفرگڑھ میں مدرسے جانے والا معصوم بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل

درخت سے لٹکی بچے کی لاش برآمد، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا

مظفرگڑھ (مظفرگڑھ ڈاٹ سٹی ۔ 15 مارچ2021ء) مظفرگڑھ میں مدرسے جانے والا معصوم بچہ مبینہ زیادتی کے بعد ۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے ایک اور شہر میں مدرسے میں پڑھنا والا ایک اور معصوم بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول بچے کے والد کا بتانا ہے کہ اس کا بچہ روزانہ خوشی خوشی مدرسے جاتا تھا، لیکن پھر گزشتہ روز جب بچہ مدرسے سے واپس نہ لوٹا تھا اس کی تلاش شروع کی گئی۔
غم سے نڈھال شخص کا مزید بتانا ہے کہ تلاش کے دوران مدرسے کے قریب موجود ایک درخت سے اس کے بچے کی لٹکتی لاش برآمد ہوا۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اس کے بچے کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل ہی سندھ کے ضلع سکھر میں بھی مسجد جانے والے ایک بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی تصدیق ہوگئی جبکہ بچے کا قاتل بھی گرفتار کر لیا گیا۔ شفیق جتوئی نامی ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے بچے کو زیادتی کے بعد گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ بچے کی لاش مسجد کی چھت سے برآمد ہوئی جس کے بعد 3 مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔
بچے کی لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے جس سے ثابت ہوا کہ اسے تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ بچے کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کا 12 سالہ بچہ نماز کیلئے باقاعدگی سے دوسرے محلے میں واقع مسجد جاتا تھا۔ ایک دن بچہ نماز کیلئے مسجد گیا لیکن پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

Loading...
%d bloggers like this: