Home / News / Urdu News / شوہرنے بیوی کی انشورنس کے پیسے ہڑپنے کے لیےبیوی کو آگ لگا دی

شوہرنے بیوی کی انشورنس کے پیسے ہڑپنے کے لیےبیوی کو آگ لگا دی

میں نے پسند کی شادی کی تھی، ہمارے چھ بچے ہیں، سب کچھ ٹھیک تھا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہم سب ہنس رہے تھے: متاثرہ خاتون
مظفر گڑھ (مظفرگڑھ ڈاٹ سٹی 18ستمبر2020ء) ضلع مظفر گڑھ کے علاقے کی رہائشی سحر خان کو اس کے شوہر نے لائف انشورنس کے پیسے بٹورنے کیلئے آگ لگادی، مگر وہ خوش قسمتی سے بچ نکلی۔نجی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے شوہر کو لالچ نے اندھا کیا، اس میں انسانیت ختم ہوگئی سحر خان کا کہنا تھا کہ میں لالچی شوہر کے ہاتھوں موت کی دہلیز سے پلٹ کر واپس آئی ہوں۔
سحر خان نے بتایا کہ میں نے پسند کی شادی کی تھی، ہمارے چھ بچے ہیں، سب کچھ ٹھیک تھا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہم سب ہنس رہے تھے، میں نے فیس بک پر ایک تصویر ڈال کر لکھا تھا ” ود ہبی” ۔سحر خان نے کہا ڈیڑھ گھنٹہ بعد میری دنیا بدل گئی میرے شوہر نے مجھ پر پٹرول چھڑکا ، مجھے آگ لگائی اور دروازے کو باہر سے بند کردیا، میرے بچے باہر کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے ، میں چلارہی تھی اور آگ سے خود کو بچانے کی کوشش کررہی تھی، آگ نے شدت اختیار کی تو میں بے ہوش ہوکرگر پڑی۔

انہوں نے کہا کہ سب نے سمجھا میں مرگئی، مگر میری چیخیں سن کر لوگ جمع ہوگئے تھے ، جب مجھے ہسپتال میں دوبارہ ہوش آیا تو میں نے کو بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے نذر آتش کیا اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ سحرخان اس اندوہناک سانحے کے بعد بھی ہمت کیے ہوئے ہیں اور تیزاب گردی اور آتشزدگی کا شکار ہوئی عورتوں کو زندگی کی طرف واپس لانے والے ایک ادارے ڈپلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن میں موجود ہیں جہاں نہ صرف ان کا علاج ہورہا ہے بلکہ انہیں سلائی اور کھانے پکانے جیسے ہنر سکھائے جارہے ہیں۔
اس ادارے کی کاوشوں سے متعلق سحر خان کا کہنا تھا کہ اس ادارے نے میرے تین آپریشن کروائے ہیں، یہاں مجھے کھانا پکانا سکھایا جاتا ہے تاکہ ہم چھوٹا سا آن لائن کاروبار شروع کرسکیں، اس کے علاوہ انہوں نے مجھے ایک سلائی مشین بھی مہیا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کلاسز میرے لیے کسی رحمت سے کم نہیں ہے یہاں سے سیکھ کر میں مالی طور پر اپنے بچوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہوجاؤں گی، پر امید سحر کا کہنا تھا کہ میں نے ایم اے اکنامکس کیا ہے مگر مجھے کسی جگہ نوکری نہیں ملتی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے دوسرا میرے چہرے کی وجہ سے بھی مجھے کوئی ملازمت پر نہیں رکھتا کہ لوگ میرے ساتھ کیسے نارمل رویہ رکھیں گے۔

Loading...
%d bloggers like this: